اِخْلاص و وفا کو عام کر دے یا رب
تاریک دلوں میں نور بھر دے یا رب
Saturday, 27 December 2014
Tuesday, 23 December 2014
mohhabat
جو سمجھو پیار محبت کا اتنا افسانہ ہوتا ہے
کچھ آنکھیں پاگل ہوتی ہیں، کچھ دل دیوانہ ہوتا ہے
کیوں آنکھیں چوکھٹ پر رکھ کر تم دنیا بھول کے بیٹھے ہو
کب چھوڑ کے جانے والے کو پھر واپس آنا ہوتا ہے
جب پیار کسی سے کرتے ہو کیوں واعظ سے گھبراتے ہو
یہ بات ہی ایسی ہوتی ہے، سب نے سمجھانا ہوتا ہے
یہ آنسو، شکوے، آہیں، سب بے معنی سی زنجیریں ہیں
کب اِن کے باندھے رکتا ہے، وہ جس کو جانا ہوتا ہے
میں تجھ کو کیسے بھولوں گا؟ تو مجھ کو کیسے بھولے گی
؟
اک داغ سا باقی رہتا ہے، جب زخم پرانا ہوتا ہے
کچھ لوگ تمہاری محفل میں چپ چاپ اکیلے بیٹھے ہیں
اُن کے چہرے پہ لکھا ہے، جو پیار نبھانا ہوتا ہے
ہم اہلِ محبت کیا جانیں دنیا کی سیاست کو مدثر کب ہاتھ ملانا ہوتا ہے کب ہاتھ چھڑانا ہوتا ہے
بزرگوں کا دامن
مسکراہٹ، تبسم، ہنسی، قہقہے
سب کے سب کھو گئے ہم بڑے ہوگئے
سب کے سب کھو گئے ہم بڑے ہوگئے
بچپن میں شیخ سعدی اپنے والد کی انگلی پکڑے ہوئے کسی میلے میں جارہے تھے۔ راستے میں کسی جگہ بندر کا کھیل دیکھنے میں ایسے لگے کہ والد کی انگلی چھوٹ گئی۔ والد اپنے دوستوں کے ساتھ آگے نکل گئے اور سعدی تماشا دیکھتے رہے۔ کھیل ختم ہوا تو والد کو سامنے نہ پاکر بے اختیار رونے لگے۔ آخر اللہ اللہ کر کے والد بھی انھیں ڈھونڈتے ہوئے آنکلے۔ انھوں نے سعدی کو روتا دیکھ کر ان کے سر پر ہلکا سا چپت مارا اور کہا: "نادان بچے! وہ بے وقوف جو بزرگوں کا دامن چھوڑ دیتے ہیں، اسی طرح روتے ہیں۔"
سعدی کہتے ہیں کہ میں نے سوچا تو دنیا کو ایسا ہی پایا، ایک میلے کی طرح۔ آدمی اس میلے میں مجھ جیسے نادان بچوں کی طرح ان بزرگوں کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے، جو اچھے اخلاق سکھاتے اور دین کی باتیں بتاتے ہیں، تب اچانک اسے دھیان آتا ہے کہ زندگی غفلت میں گزر گئی، پھر روتا اور پچھتاتا ہے۔
Tuesday, 9 December 2014
اک کہانی سبھی نے سنائی مگر ، چاند خاموش تھا
اک کہانی سبھی نے سنائی مگر ، چاند خاموش تھا
اس کی آواز کا منتظر تھا نگر ، چاند خاموش تھا
کون تھا جس کی آہوں کے غم میں ہوا سرد تھی شہر کی
کس کی ویران آنکھوں کا لے کے اثر، چاند خاموش تھا
وہ جو سہتا رہا رت جگوں کی سزا چاند کی چاہ میں
مرگیا تو نوحہ کناں تھے شجر، چاند خاموش تھا
اس سے مل کے میں یوں خامشی اور آواز میں قید تھا
اک صدا تو مرے ساتھ تھی ہم سفر ، چاند خاموش تھا
کل کہیں پھر خدا کی زمیں پر کوئی سانحہ ہوگیا
میں نے کل رات جب بھی اٹھائی نظر ، چاند خاموش تھا
MM143.net
.DUA FOR PAKISTAN
دعا میرے پاکستان کے لیے
سب خوش رہیں آباد رہیں
دل ان کے ہمیشہ شاد رہیں
کرین عزت سے گزر یہاں
ہر پل ہو قائم امن یہاں
ہوں پوری سب کی ضرورتیں
لوٹ آئیں سب کی مسکراہٹیں
حکمران ہو ایماندار یہاں
ہو قوم ذمے دار یہاں
جو قابل ہو اُسے پذیرائی ملے
ہر بےگناہ کو رہائی ملے ( ڈاکٹر قدیر خان )
دل بھرے ہوں محبت کے ساتھ
نا ہو سلوک نفرت کے ساتھ
رہے قائم ہر دم پاکستان
ہے اختتام اس دعا کے ساتھ
سب خوش رہیں آباد رہیں
دل ان کے ہمیشہ شاد رہیں
کرین عزت سے گزر یہاں
ہر پل ہو قائم امن یہاں
ہوں پوری سب کی ضرورتیں
لوٹ آئیں سب کی مسکراہٹیں
حکمران ہو ایماندار یہاں
ہو قوم ذمے دار یہاں
جو قابل ہو اُسے پذیرائی ملے
ہر بےگناہ کو رہائی ملے ( ڈاکٹر قدیر خان )
دل بھرے ہوں محبت کے ساتھ
نا ہو سلوک نفرت کے ساتھ
رہے قائم ہر دم پاکستان
ہے اختتام اس دعا کے ساتھ
Subscribe to:
Comments (Atom)




