کل رات کسی نے ہماری گاڑی کا شیشہ توڑ دیا۔۔
گاڑی میں جھانکا تو موبائل اور لیپ ٹاپ بھی نہیں تھا
مزے کی بات یہ ہوئی کہ
اس کا خود کا موبائل ہماری گاڑی میں ہی گر گیا
اور فیس بک آئ ڈی کھلی ہوئی تھی۔۔
اگر آپ میں سے اس کو کوئی پہچانتا ھے
تو ضرور بتائے مجھے۔۔۔
نیچے لنک میں اس کی پروفائل ھے۔۔۔
اوپن کریں.
http://web.facebook.com/profile.php
قصہ مشہور ہے کہ کوئی بزرگ تھے ان کے پاس ایک دفعہ ایک طالب علم آیا جو دینی علوم سیکھتا رہا۔ کچھ عرصہ پڑھنے کے بعد جب وہ اپنے وطن واپس جانے لگا تو وہ بزرگ اس سے کہنے لگے: میاں ایک بات بتاتے جاؤ۔ وہ کہنے لگا دریافت کیجئے۔ میں بتانے کے لیے تیار ہوں۔ وہ کہنے لگے اچھا یہ تو بتاؤ کیا تمہارے ہاں شیطان بھی ہوتا ہے؟ وہ کہنے لگا حضور شیطان کہاں نہیں ہوتا۔ شیطان تو ہر جگہ ہوتاہے۔ انہوں نے کہا: اچھا جب تم نے خدا تعالیٰ سے دوستی لگانی چاہی اور شیطان نے تمہیں ورغلا دیا تو تم کیا کرو گے؟ اس نے کہا میں شیطان کا مقابلہ کروں گا۔ کہنے لگے :فرض کرو تم نے شیطان کا مقابلہ کیا اور وہ بھاگ گیا، لیکن پھر تم نے اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کے لئے جدوجہد کی اور پھر تمہیں شیطان نے روک لیا تو کیا کرو گے؟ اس نے کہا: میں پھر مقابلہ کروں گا وہ کہنے لگے اچھا مان لیا تم نےدوسری دفعہ بھی اسے بھگا دیا۔ لیکن اگر تیسری دفعہ وہ پھر تم پر حملہ آور ہو گیا اور اس نے تمہیں اللہ تعالیٰ کے قرب کی طرف بڑھنے نہ دیا توکیا کرو گے؟ وہ کچھ حیران سا ہو گیا مگر کہنے لگا: میرے پاس سوائے اس کے کیا علاج ہے کہ میں پھر اس کا مقابلہ کروں۔ وہ کہنے لگے: اگر ساری عمر تم شیطان سے مقابلہ ہی کرتے رہو گے تو خدا تک کب پہنچو گے۔ وہ لاجواب ہو کر خاموش ہو گیا۔ اس پر اس بزرگ نے کہا کہ اچھا یہ تو بتاؤاگر تم اپنے کسی دوست سے ملنے جاؤ اور اسنے ایک کتا بطور پہرہ دار رکھا ہوا ہو اور جب تم اس کے دروازہ پر پہنچنے لگو تو وہ تمہاری ایڑی پکڑ لے تو تم کیا کرو گے؟ وہ کہنے لگا کتے کو مارونگا اور کیا کرونگا۔ وہ کہنے لگے: فرض کرو تم نے اسے مارا اور وہ ہٹ گیا لیکن اگر دوبارہ تم نے اس دوست سے ملنے کے لئے اپنا قدم آگے بڑھایا اور پھر اس نے تمہیں آ پکڑا تو کیا کرو گے؟ وہ کہنے لگا: میں پھر ڈنڈا اٹھاؤں گا اور اسے ماروں گا۔ انہوں نے کہا اچھا تیسری بار پھر وہ تم پر حملہ آور ہو گیا تو تم کیا کرو گے؟ وہ کہنے لگا: اگر وہ کسی طرح باز نہ آیا تو میں اپنے دوست کو آواز دوں گا کہ ذرا باہر نکلنا۔ یہ تمہارا کتا مجھے آگے بڑھنے نہیں دیتا۔ اسے سنبھال لو۔ وہ کہنے لگے: بس یہی گُر شیطان کے مقابلہ میں بھی اختیار کرنا اور جب تم اس کی تدابیر سے بچ نہ سکو تو خدا سے یہی کہنا کہ وہ اپنے کتے کو روکے اور تمہیں اپنے قرب میں بڑھنے دے۔۔۔ تم اس کا ہاتھ کیوں نہیں پکڑ لیتےجس کے قبضہ قدرت میں یہ تمام چیزیں ہیں۔ اگر تم اس سے دوستی لگا لو تو تمہیں ان چیزوں کا کوئی خطرہ نہ رہے اورہر تباہی اور مصیبت سے بچے رہو۔ یہ علاج ہے جو قرآن کریم نے بتایا ہے۔
تم مجھے بتاتے ہو کہ پاکستان میں پانی کے کولر سے گلاس باندھنا پڑتا ہے کیونکہ یہاں کے لوگ بے ایمان ہیں لیکن تم یہ نہیں بتاتے کہ جس کولر کے ساتھ یہ گلاس بندھا ہوا تھا وہ بھی کسی پاکستانی نے کبھی ایصال ثواب کے لئے اپنے کسی عزیز کا نام لکھ کر یا ویسے ہی آخرت میں ثواب کے حصول کے لئے اس چلتی راہ میں لگا دیا -
تم مجھے بتاتے ہو کہ مسجد سے جوتے اٹھا لئے جاتے ہیں اب تو اللہ کا گھر بھی محفوظ نہیں لیکن تم یہ نہیں بتاتے کہ اس مسجد کی تعمیر میں کتنے پاکستانیوں نے اپنی محدود اور لامحدود آمدنی سے چند سکے جوڑ کر یا لاکھوں کے چیکس کی صورت میں حصہ ڈالا ہے تم یہ نہیں بتاتے کہ مسجد میں لوگوں کے سکون کی خاطر بجلی کا بل کوئی بھر رہا ہے وہاں پنکھے ہیٹرز اور اے سی سسٹم کے لئے کچھ لوگ خاموش رہ کر مسلسل حصہ ڈالتے ہیں -
تم مجھے بتاتے ہو کہ کسی ایک جگہ ایکسیڈنٹ ہوا تو لوگوں نے زخمیوں کے بٹوے تک نکال لئے لیکن تم یہ نہیں بتاتے کہ ان رخمیوں کو ہسپتال پہنچانے والے بھی اسی دھرتی کے بیٹے تھے یہی وہ عوام ہیں جو ہر حادثے کے بعد خون دینے کے لئے سینکڑوں کی تعداد میں ہسپتال پہنچتے ہیں -
تم یہ تو بتاتے ہو کہ زلزلے میں ملنے والی امداد چند لوگ کھا گئے لیکن یہ نہیں بتاتے کہ لاکھوں لوگ ایسے تھے جنہوں نے اپنے گھروں سے بالکل نئے بستر نکال کر 2005 کے زلزلے کے بعد ٹرکوں کے ٹرک بھر کر مسائل زدہ بھائیوں کے لئے بھجوا دئیے تھے اور لاکھوں پاکستانیوں نے اربوں روپے امداد میں دے دیئے ۔
تم یہ تو بتاتے ہو کہ کسی ناکے پر ایک پولیس والے نے کسی نوجوان کو گولی مار دی لیکن تم بھول جاتے ہو کہ ھماری غیور ماوں نے اپنے لال اس دھرتی کے اوپر وار دئیے ۔
تم مجھے بل گیٹس کے فلاحی کاموں کی مثالیں دیتے ہو لیکن میرے ایدھی اور چھیپا کو بھول جاتے ہو - تم یہ بتانا بھول جاتے ھو کہ پاکستان دنیا کا نمبر 1 ملک ھے جہاں کے لوگ سب سے انسانیت کی فلاح کی خاطر اللہ کے حکم سے خیرات کرتے ہیں ۔
تم مجھے بتاتے ہو کہ ایک یحیی خان اور جنرل نیازی تھا لیکن تم بھول جاتے ہوکہ ایک میجرعزیز بھٹی تھا ایک سوار محمد حسین تھا ایک میجر طفیل تھا ایک لالک جان بھی تھا- تم میرے کرنل شیر خان کو بھول جاتے ھو ۔
تم مجھے بتاتے ہوکہ ایک بنگلہ دیش بن گیا جس کے ڈاکٹر یونس کو گرامین بنک پر نوبل انعام مل گیا لیکن تم میرے ڈاکٹر امجد ثاقب کو بھول جاتے ہو -
تم مجھے بتاتے ہو کہ میرے سکولوں کے اساتذہ گنوار اور جاہل ہیں بچوں پر ظلم ڈھاتے ہیں لیکن تم میرے شجیع نصراللہ کی دریائے کنہار میں لگائی جانے والی چھلانگ بھول جاتے ہو تم میری سمیعہ نورین کو بھول جاتے ہو جو خود جل گئی لیکن بہت سے بچوں کو بچاگئی اور تم میری آرمی پبلک سکول کی بہادر طاہرہ قاضی کو بھول جاتے ہو جس نے اپنی جان اپنے سارے سکول کے بچوں پر نچھاور کر دی ۔
لگے رہو تم لگے رہو میں بھی لگا ہوا ہوں تم ہر موقعے پرشورمچاتے رہو میں ان چراغوں کی روشنی سے مزید چراغ جلاتا رہوں گا -
◀تم مایوسی پھیلاتے رہو میں امید کی مدھم کرن کے پیچھے بھی چلوں گا میں جانتا ہوں کہ اس کرن کے پیچھے کوئی سورج ہے کوئی چاند ہے دیکھ لینا یہ روشنی کسی دن میرا آنگن نور سے بھر دے گی -
تم تب پلٹو گے جب میں کامیابی کی آخری سیڑھی پر کھڑا مسکرا رہا ہوں گا لیکن میں تمہیں پھر بھی خوش آمدید کہوں گا کہ میں امن سلامتی اور محبت کا داعی پاکستان ہوں میں ہی پاکستان ہوں..