Saturday, 27 May 2017

**حضرت محمد ﷺ * *

یہ واقعہ جب بھی پڑھا یا سنا
فرطِ جذبات سے آنکھیں اشکبار ہو گئیں......
نبى کریم صلى الله عليه وسلم کی وفات کا وقت جب آیا اس وقت آپ صلى الله عليه وسلم کو شدید بخار تھا_
آپ نے حضرتِ بلال رضی الله تعالى عنه کو حکم دیا کہ مدینه میں اعلان کردو کہ جس کسی کا حق مجھ پر ہو وہ مسجدِ نبوی میں آکر اپنا حق لے لے_
مدینہ کے لوگوں نے یہ اعلان سُنا تو آنکھوں میں آنسو آگئے اور مدینہ میں کہرام مچ گیا، سارے لوگ مسجدِ نبوی میں جمع ہوگئے صحابه کرام رضوان الله کی آنکھوں میں آنسوں تھے دل بے چین وبے قرار تھا_
پھر نبى کریم صلى الله عليه وسلم تشریف لائے آپ کو اس قدر تیز بخار تھا کہ آپ کا چہره مبارک سرخ ہوا جارہا تھا_
نبى کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا اے میرے ساتھیو! تمھارا اگر کوئی حق مجھ پر باقی ہو تو وہ مجھ سے آج ہی لے لو میں نہیں چاہتا کہ میں اپنے رب سے قیامت میں اس حال میں ملوں کہ کسی شخص کا حق مجھ پر باقی ہو یہ سن کر صحابه کرام رضوان الله کا دل تڑپ اُٹھا مسجدِ نبوی میں آنسوؤں کا ایک سیلاب بہہ پڑا، صحابه رو رہے تھے لیکن زبان خاموش تھی کہ اب ہمارے آقا ہمارا ساتھ چھوڑ کر جارہے ہیں_
اپنے اصحاب کی یہ حالت دیکھ کر فرمایا کہ "اے لوگوں ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے"
میں جس مقصد کے تحت اس دنیا میں آیا تھا وہ پورا ہوگیا ہم لوگ کل قیامت میں ملیں گے۔
ایک صحابی کھڑے ہوئے روایتوں میں ان کا نام عُکاشہ آتا ہے عرض کیا یا رسول الله میرا حق آپ پر باقی ہے آپ جب جنگِ اُحد کے لئے تشریف لے جارہے تھے تو آپ کا کوڑا میری پیٹھ پر لگ گیا تھا میں اسکا بدلہ چاہتا ہوں_
یہ سن کر حضرت عمر رضی الله تعالى عنه کھڑے ہوگئے اور کہا کیا تم نبى کریم صلى الله عليه وسلم سے بدلہ لوگے؟ کیا تم دیکھتے نہیں کہ آپ صلى الله عليه وسلم بیمار ہیں_
اگر بدلہ لینا ہی چاہتے ہو تو مجھے کوڑا مار لو لیکن نبى کریم صلى الله عليه وسلم سے بدله نہ لو
یہ سن کر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا "اے عمر اسے بدله لینے دو اسکا حق ہے اگر میں نے اسکا حق ادا نہ کیا تو الله کی بارگاہ میں کیا منہ دکھاؤنگا اسلئے مجھے اسکا حق ادا کرنے دو_
آپ نے کوڑا منگوایا اور حضرت عُکاشہ کو دیا اور کہا کہ تم مجھے کوڑا مار کر اپنا بدله لے لو_
حضرات صحابہ كرام رضوان الله یہ منظر دیکھ کر بے تحاشہ رو رہے تھے حضرت عُکاشہ نے کہا کہ اے الله کے رسول ! میری ننگی پیٹھ پر آپکا کوڑا لگا تھا یہ سن کر نبى کریم صلى الله عليه وسلم نے اپنا کُرتہ مبارک اُتار دیا اور کہا لو تم میری پیٹھ پر کوڑا مار لو، حضرتِ عُکاشہ نے جب اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم کی پیٹھ مبارک کو دیکھا تو کوڑا چھوڑ کر جلدی سے آپ صلى الله عليه وسلم کی پیٹھ مبارک کو چُوم لیا اور کہا یا رسول الله
"فَداکَ أبِی واُمی"
میری کیا مجال کہ میں آپ کو کوڑا ماروں میں تو یہ چاہتا تھا کہ آپکی مبارک پیٹھ پر لگی مہر نبوّت کو چوم کر جنّت کا حقدار بن جاؤں_
یہ سن کر آپ صلى الله عليه وسلم مسکرائے اور فرمایا تم نے جنّت واجب کرلی_
)الرحیق المختوم صفحہ نمبر 628(
سبحان الله
اے رب كريم! ہميں بھی نبى کریم صلى الله عليه وسلم سے سچی محبت کا جزبہ عطا فرما_
ایک بار سبحان اللہ کہہ کر ضرور شیئر کریں !
جزاکم اللہ خیراً

طالب دعا # مدثر آفتاب اعوان .اٹک .سگھری

Monday, 22 May 2017

بھوک

غربت کی تیز آنچ پر اکثر پکائی بھوک
خوشحالیوں کے شہر میں کیا کچھ نہیں کیا

دوستی .. Dosti

زندگی کے طوفان کا ساحل ہے تیری دوستی
دل کر ارمانوں کی منزل ہے تیری دوستی

زندگی بن جائے گی جنت.......!!!!
اگر سدا ساتھ ریی تیری دوستی

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
Zindagi Ke Tohfan Ka Sahil Hai Teri Dosti,
Dil Ke Armaano Ki Manzil Hai Teri Dosti,
Zindagi Ban Jayegi Jannat,
Agar Sada Saath Rahegi Teri Dosti

عشق

ﺍﺑﮭﯽ ’’ #ﻉ ‘‘ ﻟﮑﮭﻮﮞ ﺗُﻮ ﺳﻮﭼﮯ ﻣﺠﮭﮯ_❤
ﭘﮭﺮ’’ #ﺵ ‘‘ ﻟﮑﮭﻮﮞ ﺗِﺮﯼ #ﻧﯿﻨﺪ ﺍُﮌﮮ_ ❤
ﺟﺐ ’’ #ﻕ ‘‘ ﻟﮑﮭﻮﮞ ﺗُﺠﮭﮯ #ﮐُﭽﮫ ﮐُﭽﮫ ﮨﻮ_❤
ﻣَﯿﮟ ’’#ﻋِﺸﻖ ‘‘ ﻟِﮑﮭﻮﮞ ﺗُﺠﮭﮯ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ_❤

..✯✯✯✯✯✯مدثر آفتاب✯✯✯✯✯