بلا تحقيق کچھ مت بولو
بلا تحقيق نقل کرنا کا مرض اس قدر پھيل گيا ہے کہ جس سے جو بات سني اس ميں دو چار ملا کر آگے نقل کرديتے ہيں
Tuesday, 17 November 2015
Tuesday, 24 March 2015
Mosam
دل و نگاہ کے حسن و قرار کا موسم
وہ تیری یاد ترے انتظار کا موسم
جھکی ہے آنکھ کئی رت جگے سمیٹے ہوئے
چھپا ہے لمس میں کیسا خمار کا موسم
ہمارے پیار نے عمرِ دوام مانگی ہے
ہمیں قبول نہیں تھا اُدھار کا موسم
فراق لمحوں کو ہم نے حسیں بنایا ہے
سجا کے دِل میں ترے اعتبار کا موسم
ملی نگاہ تو اِک پل میں ہم پہ گزرا ہے
کروڑ قربتوں لاکھوں قرار کا موسم
ہمارے پیار کی یہ بھی ادا نرالی ہے
خزاں کی رُت میں منایا بہار کا موسم
mm143
saghri
نعت
دل مرے ساتھ اب مدینے چل
چل گناہوں کے داغ دھونے چل
چل گناہوں کے داغ دھونے چل
رات دن ہم جو کرتے رہتے ہیں
اُن خطاؤں پہ آج رونے چل
اُن خطاؤں پہ آج رونے چل
آپ کے روضۂ مقدس کا
کر طواف اور کونے کونے چل
کر طواف اور کونے کونے چل
آبِ زمزم کے پاک قطروں سے
اپنے اعمال کو بھی دھونے چل
اپنے اعمال کو بھی دھونے چل
خاکِ طیبہ بڑی مبارک ہے
اُس میں اپنی دعائیں بونے چل
اُس میں اپنی دعائیں بونے چل
بھر لے نیناں میں نور کے موتی
ان کو پلکوں میں پھر پرونے چل
ان کو پلکوں میں پھر پرونے چل
غزل
درد کی نیلی رگیں تہہ سے اُبھر آتی ہیں
یاد کے زخم میں چنگاریاں در آتی ہیں
یاد کے زخم میں چنگاریاں در آتی ہیں
روز پرچھائیاں یادوں کی پرندے بن کر
گھر کے پچھواڑے کے پیپل پہ اتر آتی ہیں
گھر کے پچھواڑے کے پیپل پہ اتر آتی ہیں
صورتیں بنتی ہیں چاہت کی یہ کس مٹی سی
بارہا مٹ کے بھی یہ بار دگر آتی ہیں
بارہا مٹ کے بھی یہ بار دگر آتی ہیں
اودے اودے سے صفورے کی گھنی ٹہنیوں سی
یاد کی سر مئی کرنیں سی گز ر آتی ہیں
یاد کی سر مئی کرنیں سی گز ر آتی ہیں
روز کھڑکی سے قریب آم کے اس پیڑ کے پاس
طوطیاں چونچ میں لے لے کے سحر آ تی ہیں
طوطیاں چونچ میں لے لے کے سحر آ تی ہیں
Subscribe to:
Posts (Atom)