دسمبر تو دسمبر ہے
دسمبر کا کیا بھروسہ
دسمبر بیت ہی جائے گ
Tuesday, 1 December 2015
Tuesday, 17 November 2015
Tuesday, 24 March 2015
Mosam
دل و نگاہ کے حسن و قرار کا موسم
وہ تیری یاد ترے انتظار کا موسم
جھکی ہے آنکھ کئی رت جگے سمیٹے ہوئے
چھپا ہے لمس میں کیسا خمار کا موسم
ہمارے پیار نے عمرِ دوام مانگی ہے
ہمیں قبول نہیں تھا اُدھار کا موسم
فراق لمحوں کو ہم نے حسیں بنایا ہے
سجا کے دِل میں ترے اعتبار کا موسم
ملی نگاہ تو اِک پل میں ہم پہ گزرا ہے
کروڑ قربتوں لاکھوں قرار کا موسم
ہمارے پیار کی یہ بھی ادا نرالی ہے
خزاں کی رُت میں منایا بہار کا موسم
mm143
saghri
نعت
دل مرے ساتھ اب مدینے چل
چل گناہوں کے داغ دھونے چل
چل گناہوں کے داغ دھونے چل
رات دن ہم جو کرتے رہتے ہیں
اُن خطاؤں پہ آج رونے چل
اُن خطاؤں پہ آج رونے چل
آپ کے روضۂ مقدس کا
کر طواف اور کونے کونے چل
کر طواف اور کونے کونے چل
آبِ زمزم کے پاک قطروں سے
اپنے اعمال کو بھی دھونے چل
اپنے اعمال کو بھی دھونے چل
خاکِ طیبہ بڑی مبارک ہے
اُس میں اپنی دعائیں بونے چل
اُس میں اپنی دعائیں بونے چل
بھر لے نیناں میں نور کے موتی
ان کو پلکوں میں پھر پرونے چل
ان کو پلکوں میں پھر پرونے چل
Subscribe to:
Posts (Atom)