Monday, 24 April 2017

غزل

پہلی بار نظروں نے چاند بولتے دیکھا
ہم جواب کیا دیتے کھو گئے سوالوں میں

رات تیری یادوں نے دل کو اس طرح چھیڑا
جیسے کوئ

ی چٹکی لے نرم نرم گالوں میں

یوں کسی کی آنکھوں میں صبح تک ابھی تھے ہم
جس طرح رہے شبنم پھول کے پیالوں میں

میری آنکھ کے تارے اب نہ دیکھ پاؤ گے
رات کے مسافر تھے کھو گئے اجالوں میں

جیسے آدھی شب کے بعد چاند نیند میں چونکے
وہ گلاب کی جنبش ان سیاہ بالوں میں

No comments:

Post a Comment