Saturday, 27 May 2017

**حضرت محمد ﷺ * *

یہ واقعہ جب بھی پڑھا یا سنا
فرطِ جذبات سے آنکھیں اشکبار ہو گئیں......
نبى کریم صلى الله عليه وسلم کی وفات کا وقت جب آیا اس وقت آپ صلى الله عليه وسلم کو شدید بخار تھا_
آپ نے حضرتِ بلال رضی الله تعالى عنه کو حکم دیا کہ مدینه میں اعلان کردو کہ جس کسی کا حق مجھ پر ہو وہ مسجدِ نبوی میں آکر اپنا حق لے لے_
مدینہ کے لوگوں نے یہ اعلان سُنا تو آنکھوں میں آنسو آگئے اور مدینہ میں کہرام مچ گیا، سارے لوگ مسجدِ نبوی میں جمع ہوگئے صحابه کرام رضوان الله کی آنکھوں میں آنسوں تھے دل بے چین وبے قرار تھا_
پھر نبى کریم صلى الله عليه وسلم تشریف لائے آپ کو اس قدر تیز بخار تھا کہ آپ کا چہره مبارک سرخ ہوا جارہا تھا_
نبى کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا اے میرے ساتھیو! تمھارا اگر کوئی حق مجھ پر باقی ہو تو وہ مجھ سے آج ہی لے لو میں نہیں چاہتا کہ میں اپنے رب سے قیامت میں اس حال میں ملوں کہ کسی شخص کا حق مجھ پر باقی ہو یہ سن کر صحابه کرام رضوان الله کا دل تڑپ اُٹھا مسجدِ نبوی میں آنسوؤں کا ایک سیلاب بہہ پڑا، صحابه رو رہے تھے لیکن زبان خاموش تھی کہ اب ہمارے آقا ہمارا ساتھ چھوڑ کر جارہے ہیں_
اپنے اصحاب کی یہ حالت دیکھ کر فرمایا کہ "اے لوگوں ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے"
میں جس مقصد کے تحت اس دنیا میں آیا تھا وہ پورا ہوگیا ہم لوگ کل قیامت میں ملیں گے۔
ایک صحابی کھڑے ہوئے روایتوں میں ان کا نام عُکاشہ آتا ہے عرض کیا یا رسول الله میرا حق آپ پر باقی ہے آپ جب جنگِ اُحد کے لئے تشریف لے جارہے تھے تو آپ کا کوڑا میری پیٹھ پر لگ گیا تھا میں اسکا بدلہ چاہتا ہوں_
یہ سن کر حضرت عمر رضی الله تعالى عنه کھڑے ہوگئے اور کہا کیا تم نبى کریم صلى الله عليه وسلم سے بدلہ لوگے؟ کیا تم دیکھتے نہیں کہ آپ صلى الله عليه وسلم بیمار ہیں_
اگر بدلہ لینا ہی چاہتے ہو تو مجھے کوڑا مار لو لیکن نبى کریم صلى الله عليه وسلم سے بدله نہ لو
یہ سن کر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا "اے عمر اسے بدله لینے دو اسکا حق ہے اگر میں نے اسکا حق ادا نہ کیا تو الله کی بارگاہ میں کیا منہ دکھاؤنگا اسلئے مجھے اسکا حق ادا کرنے دو_
آپ نے کوڑا منگوایا اور حضرت عُکاشہ کو دیا اور کہا کہ تم مجھے کوڑا مار کر اپنا بدله لے لو_
حضرات صحابہ كرام رضوان الله یہ منظر دیکھ کر بے تحاشہ رو رہے تھے حضرت عُکاشہ نے کہا کہ اے الله کے رسول ! میری ننگی پیٹھ پر آپکا کوڑا لگا تھا یہ سن کر نبى کریم صلى الله عليه وسلم نے اپنا کُرتہ مبارک اُتار دیا اور کہا لو تم میری پیٹھ پر کوڑا مار لو، حضرتِ عُکاشہ نے جب اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم کی پیٹھ مبارک کو دیکھا تو کوڑا چھوڑ کر جلدی سے آپ صلى الله عليه وسلم کی پیٹھ مبارک کو چُوم لیا اور کہا یا رسول الله
"فَداکَ أبِی واُمی"
میری کیا مجال کہ میں آپ کو کوڑا ماروں میں تو یہ چاہتا تھا کہ آپکی مبارک پیٹھ پر لگی مہر نبوّت کو چوم کر جنّت کا حقدار بن جاؤں_
یہ سن کر آپ صلى الله عليه وسلم مسکرائے اور فرمایا تم نے جنّت واجب کرلی_
)الرحیق المختوم صفحہ نمبر 628(
سبحان الله
اے رب كريم! ہميں بھی نبى کریم صلى الله عليه وسلم سے سچی محبت کا جزبہ عطا فرما_
ایک بار سبحان اللہ کہہ کر ضرور شیئر کریں !
جزاکم اللہ خیراً

طالب دعا # مدثر آفتاب اعوان .اٹک .سگھری

Monday, 22 May 2017

بھوک

غربت کی تیز آنچ پر اکثر پکائی بھوک
خوشحالیوں کے شہر میں کیا کچھ نہیں کیا

دوستی .. Dosti

زندگی کے طوفان کا ساحل ہے تیری دوستی
دل کر ارمانوں کی منزل ہے تیری دوستی

زندگی بن جائے گی جنت.......!!!!
اگر سدا ساتھ ریی تیری دوستی

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
Zindagi Ke Tohfan Ka Sahil Hai Teri Dosti,
Dil Ke Armaano Ki Manzil Hai Teri Dosti,
Zindagi Ban Jayegi Jannat,
Agar Sada Saath Rahegi Teri Dosti

عشق

ﺍﺑﮭﯽ ’’ #ﻉ ‘‘ ﻟﮑﮭﻮﮞ ﺗُﻮ ﺳﻮﭼﮯ ﻣﺠﮭﮯ_❤
ﭘﮭﺮ’’ #ﺵ ‘‘ ﻟﮑﮭﻮﮞ ﺗِﺮﯼ #ﻧﯿﻨﺪ ﺍُﮌﮮ_ ❤
ﺟﺐ ’’ #ﻕ ‘‘ ﻟﮑﮭﻮﮞ ﺗُﺠﮭﮯ #ﮐُﭽﮫ ﮐُﭽﮫ ﮨﻮ_❤
ﻣَﯿﮟ ’’#ﻋِﺸﻖ ‘‘ ﻟِﮑﮭﻮﮞ ﺗُﺠﮭﮯ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ_❤

..✯✯✯✯✯✯مدثر آفتاب✯✯✯✯✯

Monday, 24 April 2017

غزل

پہلی بار نظروں نے چاند بولتے دیکھا
ہم جواب کیا دیتے کھو گئے سوالوں میں

رات تیری یادوں نے دل کو اس طرح چھیڑا
جیسے کوئ

ی چٹکی لے نرم نرم گالوں میں

یوں کسی کی آنکھوں میں صبح تک ابھی تھے ہم
جس طرح رہے شبنم پھول کے پیالوں میں

میری آنکھ کے تارے اب نہ دیکھ پاؤ گے
رات کے مسافر تھے کھو گئے اجالوں میں

جیسے آدھی شب کے بعد چاند نیند میں چونکے
وہ گلاب کی جنبش ان سیاہ بالوں میں

Saturday, 22 April 2017

کہانی

ملک فارس ( موجودہ ایران ) کا بادشاہ بہت دنوں سے پریشان تھا۔ یوں تو ہر طرف خوش حالی کا دور تھا ، مگر بادشاہ کی پریشانی کی وجہ اس کی اکلوتی بیٹی شہزادی ثنا تھی۔ ہر باپ کی طرح بادشاہ بھی اپنی بیٹی کی شادی کر کے اپنے فرض سے دوش ہونا چاہتا تھا، لیکن شہزادی ثنا نے بھی عجیب اعلان کر رکھا تھا کہ جو شخص اس سوالوں کے درست جواب دے گا وہ اس سے شادی کرے گی۔

آس پاس کی ریاستوں کے کئی شہزادے آئے مگر نا کام لوٹ گئے۔ اس ملک میں نوجوان طالب علم بھی رہتا تھا ، اس کا نام اعظم تھا ۔ اس نے اپنے والد سے کہا کہ وہ بھی اپنی قسمت آزما نا چاہتا ہے۔ اعظم کے والد اُستاد تھے اور کئ برسوں سے لوگوں میں علم کی روشنی بانٹ رہے تھے۔ ملک فارس کا وزیراعظم ، بڑے بڑے درباری اور شہر کا قاضی بھی ان کا شاگرد تھا۔ باپ نے بیٹے کی خواہش دیکھی تو بولے: بیٹا ! اگر تو نا کام لوٹا تو تیرا کچھ نہیں جائے گا ، لوگ کیا کہیں گے کہ ایک استاد کا بیٹا نا کام ہوگیا۔ اعظم اپنے باپ سے کہنے لگا : بابا ! بڑے بڑے شہزادے لوٹ گئے۔ اگر میں بھی نا کام ہو گیا تو کیا ہوا، یہ تو مقابلہ ہے جو بھی جیت لے اور شاید وہ خوش نصیب میں ہی ہوں۔ آخر باپ کو بیٹے کی ضد ماننی پڑی۔ اعظم خوشی خوشی محل کی طرف چل پڑا۔ شہر بھر میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ ایک عالم کا بیٹا قسمت آزمانے محل میں چلا آیا ہے۔ مقررہ وقت پر محل لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا ۔ بادشاہ تخت پر بیٹھا تھا ۔ ملکہ عالیہ بھی محل میں موجود تھیں ۔ وزیر ، امیر ، درباری ، اور عوام الناس سب دربار میں موجود تھے۔ آخر شہزادی نے اپنا پہلا سوال کر ڈالا۔ اُس نے شہادت کی انگلی فضا میں بلند کی۔ اعظم نے کچھ دیر توقف کیا اور پھر شہادت والی انگلی کے ساتھ والی اگلی بھی فضا میں بلند کی ۔ یہ دیکھ کر شہزادی مسکرا اٹھی اور ملکہ عالیہ بولی : شاباش ، اے نوجوان ! تم پہلا مرحلہ کام یابی سے طے کر گئے ہو۔

دوسرے سوال کے لیے شہزادی کرسی سے اٹھی اور ہاتھ میں تلوار لے کر ہوا میں چلانے لگی ۔ کچھ دیر بعد وہ دوبارہ اپنی نشست پر آکر بیٹھ گئی ۔بادشاہ سمیت ہر درباری کی نظر اعظم پر تھی ۔ اعظم کھڑا ہوا اور اپنی جیب سے قلم نکال کر فضا میں بلند کردیا۔ شاباش اے نوجوان ! ہم خوش ہوئے ۔ یہ جواب بھی درست ہے ۔ ملکہ عالیہ کی آواز دربار میں ابھری۔ اسی کے ساتھ دربار ، مبارک ہو ، مبارک ہو ، کی آواز سے گونج اٹھا ۔ دوسوالات کیا تھے ؟ ان کے جوابات کیا تھے ، اب ہر شخص اس پر غور کر رہا تھا کہ شہزادی نے کیا پوچھا اور اعظم نے کیا جواب دیا ؟ لوگوں کے لیے یہ ایک راز تھا ۔ آخر شہزادی نے تیسرا سوال کر ڈالا۔ وہ تیزی سے سیڑھیاں اُتری اور تیزی سے سیڑھیاں چڑھ کر دوبارہ اپنی نشست پر بیٹھ گئی۔ یہ بڑا عجیب و غریب سوال تھا۔ ہر طرف خاموشی تھی۔ لوگوں کی سانسیں رُکی ہوئی تھیں ۔ اب تو اعظم کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوئے جا رہے تھے ۔ آخر اعظم کھڑا ہوا اور اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر شہزادی کی طرف دیکھنے لگا ۔ مرحبا ، مرحبا اے نوجوان ! مبارک ہو ! شہزادی نے تمھیں پسند کر لیا ہے۔ ملکہ عالیہ کی آواز کے ساتھ ہی شہزادی ثنا شرما کر محل کے اندرونی حصے میں چلی گئی اور محل مبارک باد کی آواز سے گونج اٹھا۔ لوگ خوشی سے جھوم رہے تھے۔ وہ دل ہی دل میں اللّٰه کا شکر ادا کر رہا تھا ، جس نے اُسے یہ اعزاز بخشا تھا۔ بادشاہ نے اعظم سے پوچھا : ” اے نوجوان ! ملکہ عالیہ کو تو تم نے مطمئن کر دیا ۔ اب یہ بتاؤ کہ تم سے کیا پوچھا گیا تھا اور تم نے کیا جواب دیا ؟

اگر تم نے ایک بھی غلط جواب دیا تو تمھاری گردن ماردی جائے گی ۔ اعظم پُر اعتماد انداز میں کھڑا ہوا اور بولا : بادشاہ سلامت ! شہزادی نے ایک انگلی کھڑی کر کے پوچھا تھا کہ تم کیا اللّٰه کو ایک مانتے ہو! میں نے دو اُنگلیاں کھڑی کر کے جواب دیا کہ اللّٰه اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر میر ایمان اٹل ہے۔ بہت خوب ! ہم خوش ہوئے ۔ بادشاہ نے مسکرا کر کہا۔ اعظم بولا :اس کے بعد شہزادی نے تلوار چلا کر پوچھا تھا کہ اس سے بڑا کوئی ہتھیار ہے؟ میں نے جواب دیا ہاں ، قلم کا وار تلوار کے وار سے زیادہ کارگر ہوتا ہے۔ ماشاءاللّٰه ! نوجوان ! تم نے ہمارا دل جیت لیا ۔ تم نے ثابت کر دیا کہ جاہ و جلال ، دولت و حشمت کی علم کے سامنے کوئی حیثیت نہیں ، لیکن تیسرا جواب ؟ بادشاہ نے حوصلہ افزائی کرتے ہوئے پوچھا : اعظم نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہنے لگا : بادشاہ ! شہزادی دربار کی سیڑھیاں اُتریں اور چڑھیں ، کرسی پر تھک کر بیٹھ گئیں۔ انھوں نے پوچھا تھا کہ میں تھک چکی ہوں ، لیکن میرے جسم کی ایک چیز نہیں تھکی۔ میں نے جواب دیا ۔ دل ، یہ پیدایش سے لے کر موت تک بغیر تھکے دھڑکتا رہتا ہے۔ بادشاہ نے اعظم کو کو پاس بلا کر گلے سے لگا لیا اور کہا اے لوگو ! گواہ رہنا ، میں نے حق دار کا حق ادا کر دیا ہے ۔ میری بیٹی ایسے شخص کی بیوی بن ر

Thursday, 20 April 2017

قصہ

ﺭﺍﺳﺘﮯ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﺗﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺳﮯ ﺗْﻮ ﺗﮑﺎﺭ ﮨﻮﮔﺌﯽ۔ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﺤﺚ ﻣﺒﺎﺣﺜﮧ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ، ﺑﻮﮌﮬﮯ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﺎ ﻏﺼﮧ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﻗﺎﺋﻢ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﺱ ﻟﮍﺍﺋﯽ ﮐﺎ ﺑﺪﻟﮧ ﻟﯿﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﮧ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻭﮦ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺳﮯ ﻣﺎﺭ ﭘﯿﭧ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﺳﮑﺎ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺣﻞ ﻧﮑﺎﻻ۔۔۔
ﺑﻮﮌﮬﮯ ﻧﮯ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ " ﺍﻓﻮﺍﮦ " ﭘﮭﯿﻼﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯼ ﮐﮧ ﻭﮦ " ﭼﻮﺭ " ﮨﮯ۔ ﻭﮦ ﮨﺮ ﺭﮦ ﮔﺰﺭ ﺳﮯ ﯾﮩﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﺎ۔۔۔ ﮐﺌﯽ ﻟﻮﮒ ﺍﺳﮑﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﺍﻥ ﺳﻨﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﭼﻨﺪ ﻟﻮﮒ ﯾﻘﯿﻦ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﻟﯿﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﮐﭽﮫ ﺩﻥ ﮔﺰﺭﮮ ﺗﻮ ﭘﺎﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﭼﻮﺭﯼ ﮨﻮﮔﺌﯽ۔ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺷﮏ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﭼﻮﺭﯼ ﮐﮯ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﻣﯿﮟ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﻮ ﭘﮑﮍ ﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ۔۔ ﻟﯿﮑﻦ ﭼﻨﺪ ﮨﯽ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺻﻞ ﭼﻮﺭ ﮐﺎ ﭘﺘﺎ ﻟﮕﻨﮯ ﭘﮧ ﺍﺳﮯ ﮐﻮ ﺭﮨﺎﺋﯽ ﻣﻞ ﮔﺌﯽ۔۔
ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻋﻼﻗﮯ ﮐﮯ ﺳﺮﺩﺍﺭ ﺳﮯ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﯽ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﯽ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺑﻨﺎ ﭘﮧ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮐﻮ ﭘﻨﭽﺎﺋﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﻼﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﯽ۔۔ ﺳﺮﺩﺍﺭ ﻧﮯ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﻮ ﺟﻮ ﺍﻓﻮﺍﮦ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻼﺋﯽ ﮨﮯ۔۔ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺍﯾﮏ ﮐﺎﻏﺬ ﭘﮧ ﻟﮑﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﮐﺎﻏﺬ ﮐﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﭨﮑﮍﮮ ﮐﺮﮐﮯ ﭼﻮﺭﺍﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﮯ ﮨﻮﺍ ﻣﯿﮟ ﺍﮌﺍ ﺩﮮ۔۔ ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮐﯽ ﻗﺴﻤﺖ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮨﻮﻧﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﺑﻮﮌﮬﺎ ﺳﺮﺩﺍﺭ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺑﺠﺎ ﻟﯿﺎ۔۔ ﮐﺎﻏﺬ ﭘﮧ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﻟﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭨﮑﮍﮮ ﮨﻮﺍ ﻣﯿﮟ ﺍﮌﺍ ﺩﯾﮯ۔ ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﺟﺐ ﭘﻨﭽﺎﺋﯿﺖ ﻟﮕﯽ ۔۔ ﺳﺒﮭﯽ ﻟﻮﮒ ﺟﻤﻊ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﻧﮯ ﺭﺣﻢ ﮐﯽ ﺍﺳﺘﺪﻋﺎ ﮐﯽ۔۔ ﺳﺮﺩﺍﺭ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺳﺰﺍ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮐﺎﻏﺬ ﮐﮯ ﻭﮦ ﺳﺎﺭﮮ ﭨﮑﮍﮮ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﮐﮯ ﻻﺋﮯ ﺟﻮ ﮐﻞ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮨﻮﺍ ﻣﯿﮟ ﺍﮌﺍ ﺩﯾﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺑﻮﮌﮬﺎ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﻮ ﮐﮯ ﺑﻮﻻ ﮐﮧ ' ﯾﮧ ﺗﻮ ﻧﺎﻣﻤﮑﻦ ﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ '
ﺳﺮﺩﺍﺭ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻧﮯ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﻮﺍ ﻣﯿﮟ " ﺍﻓﻮﺍﮦ " ﭘﮭﯿﻼﺋﯽ۔۔ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﯾﮧ " ﺍﻓﻮﺍﮦ " ﮐﮩﺎﮞ ﮐﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﯽ ﮨﻮﮔﯽ۔۔۔ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﮐﺎﻏﺬ ﮐﮯ ﭨﮑﮍﮮ ﻭﺍﭘﺲ ﻧﮩﯿﮟ ﻻ ﺳﮑﺘﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ " ﺍﻓﻮﺍﮦ " ﮐﯿﺴﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﻻﺅ ﮔﮯ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺑﺪﻧﺎﻡ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ۔ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﻧﮯ ﻧﺪﺍﻣﺖ ﺳﮯ ﺳﺮ ﺟﮭﮑﺎ ﻟﯿﺎ۔۔۔
ﯾﮧ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺳﺎ ﻗﺼﮧ ﮨﮯ۔ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﺪﺍﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ ﺳﺒﻖ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ۔
ﮐﺌﯽ ﺑﺎﺭ ﮨﻢ ﺑﻨﺎ ﺗﺼﺪﯾﻖ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ " ﺍﻓﻮﺍﮨﯿﮟ " ﭘﮭﯿﻼﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺑﻨﺎ ﺳﻮﭼﮯ ﺳﻤﺠﮭﮯ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﭘﮧ ﮐﺘﻨﺎ ﺍﺛﺮ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﺳﮑﺎ ﺷﺎﺋﺪ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻣﻨﮧ ﮐﮭﻮﻟﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﺼﺪﯾﻖ ﺑﮩﺖ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ

smile😄

مسکرایئے 😊😊😊
دنیا کے سارے غم ہماری ملکیت تهوڑی ہیں

Thursday, 6 April 2017

ALFALAH EDUCATION SOCIETY SAGHRI

ALFALAH EDUCATION SOCIETY SAGHRI

**خواہش**

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟

حقیقت سے بہت دورتھیں" خواہشیں" میری،
پھر بھی "خواہش " تھی کہ اِک" خواب" اِک" خیال" حقیقت ہوتا_!!!


💝💝💝💝💝💝💝💝💝💝💝💝💝💝💝

اشعار

ہے اپنی ذات میں جو رنگ و نسلِ لفظ سے بالا
خموشی اپنے اندر وہ زباں پوشیدہ رکھتی ہے

💢💢💢💢💢💢💢💢💢💢💢💢💢💢

آگ سے تیز کوئی چیز کہاں سے لاؤں
موم سے نرم ہے وہ اور پگھلتا ہی نہیں

💫💫💫💫💫💫💫💫💫💫💫💫💫

ہے اپنی ذات میں جو رنگ و نسلِ لفظ سے بالا
خموشی اپنے اندر وہ زباں پوشیدہ رکھتی ہے

❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️

سمجھ میں آئے اگر شک پہ شک کیا جائے
اگر یقین پہ نہ آئے یقیں تو کیا کیجے

♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️

Saleeqa, سلیقہ

مشکلیں سہنے کا جینے میں سلیقہ آ گیا
اب تو مر جانے میں مجھ کو کوئی دشواری نہیں
خیر ہو اے یار! تیری دلبری کی خیر ہو
عاشقوں نے ہار کر بازی ابھی ہاری نہیں

Tuesday, 4 April 2017


دوہرا قانون

اس معاشرے میں طاقتور کے گناہ چھپائے
جاتے ہیں. جبکہ ایک غریب سے اس کی بے گناہی
کا ثبوت بھی مانگا جاتا ہے.

شعر

کانٹے "کی طرح ہوں رقیبوں کی نظر میں"
رہتے ہیں مری گھات میں چھ سات مسلسل..

Monday, 3 April 2017

محبت اور جدائی

:)
جانے والوں کے لوٹ آنے کا یقین کر بھی لیا جائے تو اس بات کا یقین بھلا کیسے ہو کہ ان کے لوٹ آنے پر وقت اور جذبات کی شدت بھی یہی رہے گی۔ایسا بھی تو ہوتا ہے نا ں کہ بعض اوقات جانے والوں کی واپسی سے دل کو خوشی نہیں ملتی۔

فاخرہ گل کی تحریر’’مجھے صندل کر دو ‘‘ سے اقتباس

Thursday, 30 March 2017

Tuesday, 28 March 2017



face book

کل رات کسی نے ہماری گاڑی کا شیشہ توڑ دیا۔۔
گاڑی میں جھانکا تو موبائل اور لیپ ٹاپ بھی نہیں تھا
مزے کی بات یہ ہوئی کہ
اس کا خود کا موبائل ہماری گاڑی میں ہی گر گیا
اور فیس بک آئ ڈی کھلی ہوئی تھی۔۔
اگر آپ میں سے اس کو کوئی پہچانتا ھے
تو ضرور بتائے مجھے۔۔۔
نیچے لنک میں اس کی پروفائل ھے۔۔۔
اوپن کریں.
‏http://web.facebook.com/profile.php

اچھی بات؛ کہاوت ؛

قصہ مشہور ہے کہ کوئی بزرگ تھے ان کے پاس ایک دفعہ ایک طالب علم آیا جو دینی علوم سیکھتا رہا۔ کچھ عرصہ پڑھنے کے بعد جب وہ اپنے وطن واپس جانے لگا تو وہ بزرگ اس سے کہنے لگے: میاں ایک بات بتاتے جاؤ۔ وہ کہنے لگا دریافت کیجئے۔ میں بتانے کے لیے تیار ہوں۔ وہ کہنے لگے اچھا یہ تو بتاؤ کیا تمہارے ہاں شیطان بھی ہوتا ہے؟ وہ کہنے لگا حضور شیطان کہاں نہیں ہوتا۔ شیطان تو ہر جگہ ہوتاہے۔ انہوں نے کہا: اچھا جب تم نے خدا تعالیٰ سے دوستی لگانی چاہی اور شیطان نے تمہیں ورغلا دیا تو تم کیا کرو گے؟ اس نے کہا میں شیطان کا مقابلہ کروں گا۔ کہنے لگے :فرض کرو تم نے شیطان کا مقابلہ کیا اور وہ بھاگ گیا، لیکن پھر تم نے اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کے لئے جدوجہد کی اور پھر تمہیں شیطان نے روک لیا تو کیا کرو گے؟ اس نے کہا: میں پھر مقابلہ کروں گا وہ کہنے لگے اچھا مان لیا تم نےدوسری دفعہ بھی اسے بھگا دیا۔ لیکن اگر تیسری دفعہ وہ پھر تم پر حملہ آور ہو گیا اور اس نے تمہیں اللہ تعالیٰ کے قرب کی طرف بڑھنے نہ دیا توکیا کرو گے؟ وہ کچھ حیران سا ہو گیا مگر کہنے لگا: میرے پاس سوائے اس کے کیا علاج ہے کہ میں پھر اس کا مقابلہ کروں۔ وہ کہنے لگے: اگر ساری عمر تم شیطان سے مقابلہ ہی کرتے رہو گے تو خدا تک کب پہنچو گے۔ وہ لاجواب ہو کر خاموش ہو گیا۔ اس پر اس بزرگ نے کہا کہ اچھا یہ تو بتاؤاگر تم اپنے کسی دوست سے ملنے جاؤ اور اسنے ایک کتا بطور پہرہ دار رکھا ہوا ہو اور جب تم اس کے دروازہ پر پہنچنے لگو تو وہ تمہاری ایڑی پکڑ لے تو تم کیا کرو گے؟ وہ کہنے لگا کتے کو مارونگا اور کیا کرونگا۔ وہ کہنے لگے: فرض کرو تم نے اسے مارا اور وہ ہٹ گیا لیکن اگر دوبارہ تم نے اس دوست سے ملنے کے لئے اپنا قدم آگے بڑھایا اور پھر اس نے تمہیں آ پکڑا تو کیا کرو گے؟ وہ کہنے لگا: میں پھر ڈنڈا اٹھاؤں گا اور اسے ماروں گا۔ انہوں نے کہا اچھا تیسری بار پھر وہ تم پر حملہ آور ہو گیا تو تم کیا کرو گے؟ وہ کہنے لگا: اگر وہ کسی طرح باز نہ آیا تو میں اپنے دوست کو آواز دوں گا کہ ذرا باہر نکلنا۔ یہ تمہارا کتا مجھے آگے بڑھنے نہیں دیتا۔ اسے سنبھال لو۔ وہ کہنے لگے: بس یہی گُر شیطان کے مقابلہ میں بھی اختیار کرنا اور جب تم اس کی تدابیر سے بچ نہ سکو تو خدا سے یہی کہنا کہ وہ اپنے کتے کو روکے اور تمہیں اپنے قرب میں بڑھنے دے۔۔۔ تم اس کا ہاتھ کیوں نہیں پکڑ لیتےجس کے قبضہ قدرت میں یہ تمام چیزیں ہیں۔ اگر تم اس سے دوستی لگا لو تو تمہیں ان چیزوں کا کوئی خطرہ نہ رہے اورہر تباہی اور مصیبت سے بچے رہو۔ یہ علاج ہے جو قرآن کریم نے بتایا ہے۔

✪✪اچھی بات✪✪

تم مجھے بتاتے ہو کہ پاکستان میں پانی کے کولر سے گلاس باندھنا پڑتا ہے کیونکہ یہاں کے لوگ بے ایمان ہیں لیکن تم یہ نہیں بتاتے کہ جس کولر کے ساتھ یہ گلاس بندھا ہوا تھا وہ بھی کسی پاکستانی نے کبھی ایصال ثواب کے لئے اپنے کسی عزیز کا نام لکھ کر یا ویسے ہی آخرت میں ثواب کے حصول کے لئے اس چلتی راہ میں لگا دیا -

تم مجھے بتاتے ہو کہ مسجد سے جوتے اٹھا لئے جاتے ہیں اب تو اللہ کا گھر بھی محفوظ نہیں لیکن تم یہ نہیں بتاتے کہ اس مسجد کی تعمیر میں کتنے پاکستانیوں نے اپنی محدود اور لامحدود آمدنی سے چند سکے جوڑ کر یا لاکھوں کے چیکس کی صورت میں حصہ ڈالا ہے تم یہ نہیں بتاتے کہ مسجد میں لوگوں کے سکون کی خاطر بجلی کا بل کوئی بھر رہا ہے وہاں پنکھے ہیٹرز اور اے سی سسٹم کے لئے کچھ لوگ خاموش رہ کر مسلسل حصہ ڈالتے ہیں -

تم مجھے بتاتے ہو کہ کسی ایک جگہ ایکسیڈنٹ ہوا تو لوگوں نے زخمیوں کے بٹوے تک نکال لئے لیکن تم یہ نہیں بتاتے کہ ان رخمیوں کو ہسپتال پہنچانے والے بھی اسی دھرتی کے بیٹے تھے یہی وہ عوام ہیں جو ہر حادثے کے بعد خون دینے کے لئے سینکڑوں کی تعداد میں ہسپتال پہنچتے ہیں -

تم یہ تو بتاتے ہو کہ زلزلے میں ملنے والی امداد چند لوگ کھا گئے لیکن یہ نہیں بتاتے کہ لاکھوں لوگ ایسے تھے جنہوں نے اپنے گھروں سے بالکل نئے بستر نکال کر 2005 کے زلزلے کے بعد ٹرکوں کے ٹرک بھر کر مسائل زدہ بھائیوں کے لئے بھجوا دئیے تھے اور لاکھوں پاکستانیوں نے اربوں روپے امداد میں دے دیئے ۔

تم یہ تو بتاتے ہو کہ کسی ناکے پر ایک پولیس والے نے کسی نوجوان کو گولی مار دی لیکن تم بھول جاتے ہو کہ ھماری غیور ماوں نے اپنے لال اس دھرتی کے اوپر وار دئیے ۔

تم مجھے بل گیٹس کے فلاحی کاموں کی مثالیں دیتے ہو لیکن میرے ایدھی اور چھیپا کو بھول جاتے ہو - تم یہ بتانا بھول جاتے ھو کہ پاکستان دنیا کا نمبر 1 ملک ھے جہاں کے لوگ سب سے انسانیت کی فلاح کی خاطر اللہ کے حکم سے خیرات کرتے ہیں ۔

تم مجھے بتاتے ہو کہ ایک یحیی خان اور جنرل نیازی تھا لیکن تم بھول جاتے ہوکہ ایک میجرعزیز بھٹی تھا ایک سوار محمد حسین تھا ایک میجر طفیل تھا ایک لالک جان بھی تھا- تم میرے کرنل شیر خان کو بھول جاتے ھو ۔

تم مجھے بتاتے ہوکہ ایک بنگلہ دیش بن گیا جس کے ڈاکٹر یونس کو گرامین بنک پر نوبل انعام مل گیا لیکن تم میرے ڈاکٹر امجد ثاقب کو بھول جاتے ہو -

تم مجھے بتاتے ہو کہ میرے سکولوں کے اساتذہ گنوار اور جاہل ہیں بچوں پر ظلم ڈھاتے ہیں لیکن تم میرے شجیع نصراللہ کی دریائے کنہار میں لگائی جانے والی چھلانگ بھول جاتے ہو تم میری سمیعہ نورین کو بھول جاتے ہو جو خود جل گئی لیکن بہت سے بچوں کو بچاگئی اور تم میری آرمی پبلک سکول کی بہادر طاہرہ قاضی کو بھول جاتے ہو جس نے اپنی جان اپنے سارے سکول کے بچوں پر نچھاور کر دی ۔

لگے رہو تم لگے رہو میں بھی لگا ہوا ہوں تم ہر موقعے پرشورمچاتے رہو میں ان چراغوں کی روشنی سے مزید چراغ جلاتا رہوں گا -

◀تم مایوسی پھیلاتے رہو میں امید کی مدھم کرن کے پیچھے بھی چلوں گا میں جانتا ہوں کہ اس کرن کے پیچھے کوئی سورج ہے کوئی چاند ہے دیکھ لینا یہ روشنی کسی دن میرا آنگن نور سے بھر دے گی -

تم تب پلٹو گے جب میں کامیابی کی آخری سیڑھی پر کھڑا مسکرا رہا ہوں گا لیکن میں تمہیں پھر بھی خوش آمدید کہوں گا کہ میں امن سلامتی اور محبت کا داعی پاکستان ہوں میں ہی پاکستان ہوں..

Monday, 27 March 2017

سچی بات

✯✯✯✯✯☆☆☆☆☆✯✯✯✯✯✯☆☆☆☆☆
◀جو سہہ رہا ہوتا ہےصرف وہی جانتا ہے
کہ وہ کس قدر اذیت میں ہے

◀باقی تو صرف قیاس آرائیاں ہی کر سکتے ہیں..✫
⇨⇦⇨⇦⇨⇦⇨⇦⇨⇦⇨⇦⇨⇦⇨⇦⇨⇦⇨

Sunday, 12 March 2017

TAHLEEM

جہالت افلاس کی بدترین قسم ہے.

Sunday, 1 January 2017

RISHTEY

✯✯بعض رشتوں کے نام نہیں ہوتے ؛
✯بس مقام ہوتے ہیں.

new year

Naya saal aaye banke ujala,

Khul jaye apki kismat ka tala,

Hamesha aap pr rhe meharbaan upar wala,

yahi dua krta h apka chahne wala

Happy New Year 2017